آیت مطلق

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - قرآن مجید میں آیت کا وہ گول نشان جس پر چھوٹی سی ط بنی ہوتی ہے (اس پر ٹھہرنا اور اسے اگلی آیت سے ملا کر نہ پڑھنا واجب ہے)، پکی آیت؛ (مجازاً) قطعی حکم یا فیصلہ۔ "آپ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے بھی اکثر آیت مطلق ہی سے کام لیا، مگر ایسا نہیں ہوا۔"      ( خطوط محمد علی، ١٩١٩ء، ٧٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'آیت' کے ساتھ کسرہ صفت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم صفت 'مطلق' ملانے سے مرکب بنا۔ اور بطور اسم مستعمل ہے ١٨٦٠ء میں "فیض الکریم تفسیر قرآن العظیم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قرآن مجید میں آیت کا وہ گول نشان جس پر چھوٹی سی ط بنی ہوتی ہے (اس پر ٹھہرنا اور اسے اگلی آیت سے ملا کر نہ پڑھنا واجب ہے)، پکی آیت؛ (مجازاً) قطعی حکم یا فیصلہ۔ "آپ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے بھی اکثر آیت مطلق ہی سے کام لیا، مگر ایسا نہیں ہوا۔"      ( خطوط محمد علی، ١٩١٩ء، ٧٦ )

جنس: مؤنث